حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ وحدت مسلمین شعبۂ اصفہان کے زیرِ اہتمام قائدِ مقاومت شہید علامہ سید حسن نصر اللہؒ کی دوسری برسی اور مرحوم محمد رفیق، حافظ علی عمار یاسر اور سیدہ عفت نقوی کے ایصالِ ثواب کے لیے مجلسِ تکریمِ شہداء کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، محبانِ اہلِ بیتؑ اور عزاداران نے شرکت کی۔
مجلس سے مدرسہ الولایہ اسلام آباد کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین سید علی محمد نقوی نے خطاب کیا۔
انہوں نے شہداء کی فضیلت، ان کی عظیم قربانیوں اور بارگاہِ الٰہی میں ان کے بلند مرتبے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اسلام کی سربلندی، رضائے الٰہی اور مظلوموں کی حمایت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اس راہ میں اپنی جان قربان کر دیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم مقام و مرتبے کے حامل ہوتے ہیں۔

مولانا سید علی محمد نقوی نے قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ «إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ تاہم شہداء کے لیے جنت کی نعمتوں کے ساتھ قربِ الٰہی اور رضوانِ الٰہی کا حصول بھی ایک عظیم انعام ہے، جس کی عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہداء وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے دینِ اسلام کی سربلندی اور مظلومین کی حمایت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ شہید امام خامنہ ای اور شہید سید حسن نصر اللہؒ جیسی شخصیات نے اپنی زندگیوں کو راہِ خدا میں قربان کرکے ایثار، استقامت اور مظلوموں کی حمایت کی روشن مثالیں قائم کیں۔
مولانا سید علی محمد نقوی نے زور دیا کہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کی یاد، ان کے افکار اور ان کے مشن کو زندہ رکھا جائے اور حق و انصاف کی راہ میں ثابت قدم رہا جائے۔










آپ کا تبصرہ